لکھنؤ،3 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے خلاف نازیبا تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے بی جے پی کے سابق ریاستی نائب صدردیاشنکر سنگھ کی بیوی نے بی ایس پی کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ان کی بیٹی کے بارے میں بھی مبینہ اشتعال انگیزنعرے بازی کے معاملے میں بی ایس پی کے جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی پر بھی پاکسو قانون لگانے کا کا مطالبہ کرتے ہوئے آج انتظامیہ اور حکومت پر دوہرا رویہ اپنانے کا الزام لگایا۔دیاشنکر سنگھ کی بیوی سواتی نے یہاں پریس کانفرنس میں پولیس پر بی ایس پی کے جنرل سکریٹری صدیقی کو بچانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پولیس کو جو دو سی ڈی دی ہے۔ان میں سے ایک میں نسیم الدین صدیقی تین چار لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر مائیک میں یہ بولتے ہوئے صاف دکھائی دے رہے ہیں کہ دیاشکر اپنی بہن بیٹی کو پیش کرو۔اس کے باوجود ان پر پاکسو قانون نہیں لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے اس معاملے میں حکومت کی منشا پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بی ایس پی کے مظاہرے کی سی ڈی میڈیا کے ذریعے سے ملی تھی۔انتظامیہ تو ہر دھرنے کی سی ڈی بناتا ہے، آخر انتظامیہ کے پاس وہ سی ڈی کیوں نہیں ہے جس میں صدیقی بولتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔اس معاملے میں اور لوگوں پر تو پاکسو لگا یا گیا لیکن پولیس صدیقی کو بچا رہی ہے۔سواتی نے کہا کہ ان کے شوہر پر مقدمہ درج ہوتے ہی پولیس نے ان کی تلاش میں چھاپہ ماری شروع کر دی تھی لیکن اب جن بی ایس پی لیڈروں پر پاکسو قانون لگایا گیا ہے، ان کے پیچھے پولیس اور ایس ٹی ایف کیوں نہیں لگ رہی ہے؟ان پر کب کارروائی ہوگی؟ایسا نہ کرنے سے انہیں کیا فائدہ ہے یاپھرکیاوہ مایاوتی سے ڈرتے ہیں؟۔ بلندشہر میں اجتماعی عصمت دری سانحہ پر بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے تابڑتوڑبیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سواتی نے کہاکہ بی ایس پی کے کسی بھی لیڈر کو یہ حق ہے کہ وہ بلند شہر میں عصمت دری کی شکار بچی کے لیے کچھ بھی بولے، مجھے مایاوتی سے صفائی چاہیے، نسیم الدین پر پاکسو لگنا چاہیے۔